امریکن لابی کیسے بنتی ہے

پیسہ اور دنیاوی زندگی میں کسی بھی شعبے میں مال کمانے کے لئے کسی اچھے  منصب کا حصول اور پرتعیش زندگی گزارنے کے لئے موٹی آمدنی اور وسائل پیدا کرنا  وہ بشری کمزوریاں ہیں جن کا شکار وہ افراد بہ آسانی ہو جاتے ہیں جن کی گھر اور سکول کی سطح پر مناسب تربیت نہیں ہوتی‘امریکی پالیسی سازوں کایہ وطیرہ رہا ہے کہ جس ملک کو انہوں نے اپنے تابع کر کے اپنی ڈگڈگی پر نچانا ہوتا ہے وہ اس کے اہم ریاستی اداروں کے ذمہ دار اہلکاروں کو امریکہ نواز بنانے کے واسطے ان کو اپنے جام میں اتارنے کے لئے ان کی مندرجہ بالا  بشری کمزوریوں کا فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان کو اپنا گرویدہ بنانے کے واسطے ان کی ان خواہشات کو پورا کرتے ہیں‘ چنانچہ وہ مطلوبہ ممالک میں ریاستی اداروں کے اہم اہلکاروں  کو  مندرجہ بالا  سہولیات فراہم کر کے  امریکن لابی پیدا کرلیتے ہیں جو پھر اس ملک میں امریکن مفادات کا زیادہ خیال رکھتی ہے‘ بدقسمتی سے غداران  وطن ہر دور اورہرملک میں  پیدا ہوتے رہے ہیں‘آج کل امریکہ چین کے درپے ہے اور اسے اس خطے میں چین کا بڑھتا ہوا اثر و نفوذ اچھا نہیں لگتا‘ وہ کوشش کر رہا ہے کہ اس خطے میں بیٹھ کر چین کو کوئی نہ کوئی زک پہنچائے عوام ارباب اقتدار سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ ایک مرتبہ پھر امریکہ کے بہکاوے اور جھانسے میں نہیں آ ئیں گے اور امریکہ کی کسی بھی ایسی سازش کا حصہ نہیں بنیں گے کہ جس سے چین کو کوئی زک پہنچانا مقصود ہو گا‘ ٹرمپ کی بھارت کے ساتھ تیزی سے بڑھتی ہوئی دوستی اور بھارت کی تعریف میں رطب اللسانی اس بات کا بعین ثبوت ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے چین کے خلاف ایک متحدہ محاذ بنا رہا ہے ان حالات کے پیش نظر ٹرمپ پر کسی بھی معاملے میں بھروسہ نہیں کیا جا سکتا کہ وہ پاکستان کا ہمدرد ہو گا بھارت کے ساتھ اب اس کی خوب چھنتی ہے اور بھارت وطن عزیز کا ازلی دشمن ہے۔
قومی سلامتی کمیٹی نے بالکل درست بات کہی ہے کہ بھارت کے ایما پر افغانستان دہشت گردوں کے ہاتھ پاکستان کے اندر دہشت گردی کروا رہا ہے یہ ملک کی بقاء کا مسئلہ تھا ملک رہے گا تو سیاست دان سیاست کر سکیں گے اور خاکم بدہن اگر ملک کا   وجود ہی نہ  رہا تو پھر  کہاں کی سیاست  اور کس جگہ ہوگی مولانا فضل الرحمان صاحب کا یہ بیان ملک کے محب وطن عناصر کو اچھا لگا ہے کہ اگر اپوزیشن ان سے مشورہ کرتی تو وہ اس کو قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کرنے اور بائیکاٹ نہ کرنے کا کہتے وقت آ گیا ہے کہ افغانستان پر اقوام متحدہ کی سطح پر دباؤ ڈالا جائے‘ اور اس پر یک زبان ہو کر عالمی سطح پر اقتصادی پابندیاں لگائی جائیں اور وہ اس وقت تک نہ ہٹائی جائیں کہ جب تک افغانستان اپنی سر زمین کو دہشت گرد تنظیموں سے پاک صاف نہ کردے اس ضمن میں ہماری وزارت خارجہ کو متحرک ہو کر اقوام متحدہ میں ٹھوس  حکمت عملی پر فوراً عمل درآمد شروع کرے   تو بہتر ہو گا ماہ صیام اب چند دنوں کا مہمان ہے ہر مسلمان بھلے وہ عمر میں  چھوٹا ہو یا بڑا‘ اس کی آمد پر خوش ہوتا ہے اور اس  کے جانے پر اداس۔