پاک چین دوستی بے مثال ہے

یوم پاکستان پر چینی صدر کا پاکستان کو خیر سگالی کاپیغام چین کی پاکستان سے لازوال محبت کا آئینہ دار تھا ان کے یہ الفاظ پاکستان کے لئے بڑے حوصلہ افزا تھے کہ کچھ بھی ہو جاے چین پاکستان کے ساتھ تعلقات کو ترجیح دیتا ہے۔ امریکہ کو پاک چین دوستی ایک آنکھ نہیں بھاتی اس نے مودی سرکار سے گٹھ جوڑ کر کے اس خطے میں چین کے خلاف ایک محاذ بنانا شروع کر دیاہے‘ پر وہ اس میں منہ کی کھائے گا‘ چین میں کمیونسٹ پارٹی  ماؤزے تنگ اور چو این لائی کی زیر قیادت 1949 ء میں برسر اقتدار آئی اور تب سے لے کر اب تک چین کی پاکستان سے رغبت میں اضافہ ہی ہوتا گیا‘ایک ایسا دور بھی تھا کہ چین میں باہر دنیا کے لوگ صرف پی آئی اے کے ذریعے ہی جا سکتے تھے کیونکہ کسی اور ائیر لائن کو وہاں جانے کی اجازت ہی نہ تھی حتیٰ کہ امریکی صدر نکسن اور امریکہ کے وزیر خارجہ ہنری کسنجر کو بھی چین کادورہ کرنے میں پاکستان کی معاونت درکارہوئی تھی‘ اگر پاکستان چین اور پاکستان امریکہ دوستی کا تقابلی جائزہ لیا جاے تو یہ حقیقت اظہر من الشمس ہو جاتی ہے کہ پاک  چین دوستی کا جواب نہیں‘امریکہ مطلب کا یار ہے جب کہ چین کی پاکستان دوستی کسی مصلحت کے کبھی تابع نہیں رہی‘اگر پاکستان نے چین کی دوستی کا دامن نہ چھوڑا تو یقین مانئے وطن عزیز کے دشمن اس کی بقاء کے خلاف جنگ کبھی بھی جیت نہیں سکیں گے۔ امریکہ ہو کہ مشرق وسطیٰ‘ وہ اب اپنے دروازے غیر ملکی تارکین وطن کے واسطے بند کر رہے ہیں کیونکہ ان کی اپنی معیشتوں کا برا حال ہے جن کو اپنے لالے پڑے ہوئے ہیں‘کجا وہ  غیر ملکیوں کا بوجھ اٹھائیں جو معاش کی تلاش میں وہاں کا رخ کرتے ہیں‘یہ حالات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ ہم جیسے پسماندہ ممالک کے ارباب اقتدار ملک کے اندر منصفانہ معاشی نظام مرتب کریں تاکہ ہماری ورک فورس دربدرہو کر غیر ملکوں کا رخ نہ کرے۔